
جنرل مشرف کے دور میں بیرکوں تک محدود رہنے والی فوج قوم کے دل سے بھی نکل رہی تھی لیکن دہشت گردی کی جنگ جیتنے کیلئے جب فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے کمان سنبھالی تو ان کے پیش نظر دہشت گردی کی جنگ سے بڑاکام قوم سے اپنا اٹوٹ ناطہ جوڑناتھا........اسکی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ انہیں کسی بھی طرح کی بدعنوانی سے سمجھوتہ نہیں کرناتھا۔وہ اس میں سرخرو ہوئے اور فوج کے خون سے انہوں نے قوم کا دل جیت لیا۔انہوں نے قوم کے ارمانوں اور قوم کے سپوتوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا اور پھر ہر اس محاذ پر انہوں نے پیش رفت کرنا شروع کردی جس سے دہشت گردوں کو تقویت پہنچتی تھی۔
دراصل وہ راز جان گئے ہیں کہ فوج کو حالیہ جنگ جیتنے کے لئے ”ملٹی پل وار“ لڑنا ہوگی جو صرف پہاڑوں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کاقلع قمع کرنے سے ختم نہیں ہوگی بلکہ پوش شہروں ،سوئس و پانامہ ورلڈمیں کارپوریٹ دنیا بسانے والوں کا بھی صفایا کرنا ہوگا تاکہ دہشت گردوں کے ساتھ دوطرفہ مفادات کے تحت کاروبار اور سیاست کرنے والے اپنے انجام تک پہنچ سکے۔
جنرل راحیل شریف اس سے پہلے واضح کرچکے ہیں کہ دہشت گرداورکرپٹ مافیاکا گٹھ جوڑ ایک ایسا ناسور ہے جسے ختم کرکے ہی پہاڑوں اور شہروں میں امن قائم کیا جاسکتا ہے اور اسکے لئے جہاں رینجرز اور فوج کو ایڈوانس کرنا ہوگا وہاں نیب کو بھی بڑے بڑے مگرمچھوں سے چومکھی لڑنا ہوگی ۔لہذا فوج کی مکمل حمایت کے بعد سول حکومت نے بھی بدعنوانی کے خلاف جنگ لڑنے کے عزم کا اظہار کیا اور اس حوالے سے میڈیا میں کمرشلز بھی چلائے گئے اور بین السطور میں یہ پیغام واضح کیا گیا کہ سول حکومت اورفوج ایک پیج پر ہیں اور کرپٹ مافیا کا بے دریغ احتساب کیاجائے گا لیکن جب نیب نے ”رسائیاں“ مانگنا شروع کردیں تو سول حکومت نے ”دہائیاں “ دینی شروع کردیں اور نیب کو نتھ ڈالنے ،کڑا وقت دینے ،اسکے اختیارات سلب و محدود کرنے کی دھمکیاں بھی دی جانے لگیں ۔اس پر مستزاد کہ نیب کے ان تمام اقدامات کو فوج کے کسی نئے ایجنڈے سے تعبیر کرکے پروپیگنڈے شروع کردئے گئے ،اس موقع پر فوج نے اپنا نقطہ نظر واضح کردیا اور بے دریغ مگر میرٹ پرشفاف احتساب کی حمایت جاری رکھی۔یہ فوج کے اسی نظرئےے ،عقیدے اور ارادے کا ثبوت ہے کہ جنرل راحیل شریف نے پانامہ لیکس کی لٹ سلجانے میں مصروف حکمرانوں کو ۲۱ کرپٹ فوجی افسروں کو برطرف کرکے چونکا دیا ہے اور بتادیا ہے کہ کرپشن لیگزمیں کوئی فرینڈلی میچ کھیلنے نہیں دیا جائے گا۔احتساب ہوگا اور ہر طرح کی نورا کشتی سے ماورا ہوگا۔
یہ وہی فوج ہے جس کا سربراہ تبدیل ہوا تو اس نے پاکستانیوں کے سودے کرکے بینک بیلنس نہیں بڑھایا نہ دہشت گردی کی جنگ کی کھچڑی پکائی ہے۔جنرل راحیل شریف نے قوم کو جوابدہ ہونے کا اصولی موقف اپنا لیا ہے لہذا قوم نے فوج سے پھر اسی پیار کا رشتہ جوڑلیاہے جو اسے ہمیشہ ہر محاذ پر تقویت دینے کا باعث بنتاآیا ہے۔فوجیں قوم کے اعتماد کا خون کرکے دشمنوں سے جنگیں تو کجا اپنی بقا کی جنگ بھی نہیں جیت سکتیں ۔اسکی مثالیں موجودہ دور میں موجود ہیں امریکہ ۔چین،روس،فرانس،ازبکستان،بھارت ، صومالیہ،افغانستان،سوڈان،لیبیاایسے ملکوں میں جہاں کرپشن کا سونامی بہتا ہے وہاں ان ملکوں میں ملٹری کرپشن کا جوالا بھی اٹھتا رہتا ہے اور انکی عوام بھی فوج پر انگلیاں اٹھاتی ہیں۔ ان جیسے ملکوں میں فوجی افسران صرف ملٹری ویپنزو ٹیکنالوجی کی خرید پرکک بیکس وصول نہیں کرتے بلکہ وہ براہ راست جرائم میں ملوث ہوتے ہیں بالخصوص کنسٹرکش اور آئل کے ٹھیکوں میں وہ ”مافیا“ کا کردار ادا کرتے ہیں۔عراق،لیبیا،اور افغانستان اس کاروبار کی بدترین کرپشن کا ثبوت ہیں کہ جہاں امریکہ کے علاوہ کئی ملکوں کی ملٹری کرپشن منظر عام پر آچکی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاک فوج اپنی پاک دامنی کی وجہ سے دنیا میں سب سے بہترین فوج شمار ہوتی آرہی ہے اور جنرل راحیل شریف نے اسکا حق ادا کردیا ہے۔انہوں نے ملک میں بہتی کرپشن گنگا میں اشنان کرنے والے فوجی افسروں کوڈبوکر غارت کر دیا ہے ۔ان کے حالیہ فیصلے کے بعد تو امید ہو چلی ہے کہ جنرل راحیل شریف فوج میں کڑے احتساب کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور اس کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے جن 12 افسران کو برطرف کیاہے، ان سے مراعات کا حساب بھی لیں گے ۔ان حالات میں وہ سیاستدانوں اور سرکاری اداروں کے افسروں کی ملی بھگت سے ہونے والی بدعنوانیوں کا احتساب کرنے کی مہم کو کامیاب کرائیں گے ۔کیونکہ قوم کو ان کے اقدامات سے حوصلہ ملا ہے اورجب قوم فوج کے ساتھ اٹھ کھڑی ہو تو اس فضا میں تبدیلی کی کامیابی کاامکان روشن ہوجاتاہے ۔
جنرل راحیل شریف کے فیصلہ سے فوج کے کردار پر اٹھائی جانے والی انگلیوں کے رخ بھی تبدیل ہونے لگے ہیں۔پانامہ لیکس کے بعد دائیں بائیں سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے تھے کہ اگر سیاستدانوں، بیوروکریٹس، ججوں، صنعت کاروں ،رئیل سٹیٹ ٹائیکونز ،اور میڈیا مالکان سے تحقیقات کی جا سکتی ہیں تو فوج کے اندر کرپشن کرنیوالوں کو کون پکڑے گا؟ ظاہر ہے کہ پاکستان میں فوج پر تنقید کرنا ایک مشکل ”جاب“ ہے لہذا اس سے بڑھ کر کرپٹ فوجی افسروں کی نشاندہی کرنے کی کوئی بھی تاب نہیں رکھتا۔ لہٰذا عوام کے ہیجان کو پیش نظر رکھتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے ازخودبدعنوانی کرنیوالے فوجی افسروں کو کھلم کھلا عوامی عدالت میں لاکھڑا کیا ہے۔ اگرچہ اس پر بھی جنرل صاحب سے مزید کا تقاضا کیا جا رہا ہے اور یہ نقطہ انہیں سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اگر فوج میں سے ہر طرح کی کرپشن ختم کردی جائے تو ملک میں اچھی سیاسی قیادت پیدا ہوگی۔بعض فوجیوں کے غیر آئینی وغیر قانونی اقدامات کی وجہ سے کرپٹ سیاستدانوں اور بااثر لوگوں کو تقویت ملتی ہے اور وہ معاشرے میں لوٹ مارکرتے،نظام کار کو کمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں لہذا جب فوج کا دامن بالکل صاف ہوجائے گا اور کرپشن کا سیاسی باب بھی ختم کردیں گے تو پاکستان کی جڑیں ہرحوالے سے مضبوط ہوجائیں گی۔ظاہر ہے جنرل صاحب نے دہشت گردی اور کرپشن کی جنگ جیتنے کے لئے اندر کے لوگوں کو نہیں چھوڑااور ہر صورت ملک کی بنیادیں مضبوط کرنے کی ٹھان لی ہے تو فوج کو آئینی کردار سے باہر نکلنے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔
دراصل وہ راز جان گئے ہیں کہ فوج کو حالیہ جنگ جیتنے کے لئے ”ملٹی پل وار“ لڑنا ہوگی جو صرف پہاڑوں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کاقلع قمع کرنے سے ختم نہیں ہوگی بلکہ پوش شہروں ،سوئس و پانامہ ورلڈمیں کارپوریٹ دنیا بسانے والوں کا بھی صفایا کرنا ہوگا تاکہ دہشت گردوں کے ساتھ دوطرفہ مفادات کے تحت کاروبار اور سیاست کرنے والے اپنے انجام تک پہنچ سکے۔
جنرل راحیل شریف اس سے پہلے واضح کرچکے ہیں کہ دہشت گرداورکرپٹ مافیاکا گٹھ جوڑ ایک ایسا ناسور ہے جسے ختم کرکے ہی پہاڑوں اور شہروں میں امن قائم کیا جاسکتا ہے اور اسکے لئے جہاں رینجرز اور فوج کو ایڈوانس کرنا ہوگا وہاں نیب کو بھی بڑے بڑے مگرمچھوں سے چومکھی لڑنا ہوگی ۔لہذا فوج کی مکمل حمایت کے بعد سول حکومت نے بھی بدعنوانی کے خلاف جنگ لڑنے کے عزم کا اظہار کیا اور اس حوالے سے میڈیا میں کمرشلز بھی چلائے گئے اور بین السطور میں یہ پیغام واضح کیا گیا کہ سول حکومت اورفوج ایک پیج پر ہیں اور کرپٹ مافیا کا بے دریغ احتساب کیاجائے گا لیکن جب نیب نے ”رسائیاں“ مانگنا شروع کردیں تو سول حکومت نے ”دہائیاں “ دینی شروع کردیں اور نیب کو نتھ ڈالنے ،کڑا وقت دینے ،اسکے اختیارات سلب و محدود کرنے کی دھمکیاں بھی دی جانے لگیں ۔اس پر مستزاد کہ نیب کے ان تمام اقدامات کو فوج کے کسی نئے ایجنڈے سے تعبیر کرکے پروپیگنڈے شروع کردئے گئے ،اس موقع پر فوج نے اپنا نقطہ نظر واضح کردیا اور بے دریغ مگر میرٹ پرشفاف احتساب کی حمایت جاری رکھی۔یہ فوج کے اسی نظرئےے ،عقیدے اور ارادے کا ثبوت ہے کہ جنرل راحیل شریف نے پانامہ لیکس کی لٹ سلجانے میں مصروف حکمرانوں کو ۲۱ کرپٹ فوجی افسروں کو برطرف کرکے چونکا دیا ہے اور بتادیا ہے کہ کرپشن لیگزمیں کوئی فرینڈلی میچ کھیلنے نہیں دیا جائے گا۔احتساب ہوگا اور ہر طرح کی نورا کشتی سے ماورا ہوگا۔
یہ وہی فوج ہے جس کا سربراہ تبدیل ہوا تو اس نے پاکستانیوں کے سودے کرکے بینک بیلنس نہیں بڑھایا نہ دہشت گردی کی جنگ کی کھچڑی پکائی ہے۔جنرل راحیل شریف نے قوم کو جوابدہ ہونے کا اصولی موقف اپنا لیا ہے لہذا قوم نے فوج سے پھر اسی پیار کا رشتہ جوڑلیاہے جو اسے ہمیشہ ہر محاذ پر تقویت دینے کا باعث بنتاآیا ہے۔فوجیں قوم کے اعتماد کا خون کرکے دشمنوں سے جنگیں تو کجا اپنی بقا کی جنگ بھی نہیں جیت سکتیں ۔اسکی مثالیں موجودہ دور میں موجود ہیں امریکہ ۔چین،روس،فرانس،ازبکستان،بھارت ، صومالیہ،افغانستان،سوڈان،لیبیاایسے ملکوں میں جہاں کرپشن کا سونامی بہتا ہے وہاں ان ملکوں میں ملٹری کرپشن کا جوالا بھی اٹھتا رہتا ہے اور انکی عوام بھی فوج پر انگلیاں اٹھاتی ہیں۔ ان جیسے ملکوں میں فوجی افسران صرف ملٹری ویپنزو ٹیکنالوجی کی خرید پرکک بیکس وصول نہیں کرتے بلکہ وہ براہ راست جرائم میں ملوث ہوتے ہیں بالخصوص کنسٹرکش اور آئل کے ٹھیکوں میں وہ ”مافیا“ کا کردار ادا کرتے ہیں۔عراق،لیبیا،اور افغانستان اس کاروبار کی بدترین کرپشن کا ثبوت ہیں کہ جہاں امریکہ کے علاوہ کئی ملکوں کی ملٹری کرپشن منظر عام پر آچکی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاک فوج اپنی پاک دامنی کی وجہ سے دنیا میں سب سے بہترین فوج شمار ہوتی آرہی ہے اور جنرل راحیل شریف نے اسکا حق ادا کردیا ہے۔انہوں نے ملک میں بہتی کرپشن گنگا میں اشنان کرنے والے فوجی افسروں کوڈبوکر غارت کر دیا ہے ۔ان کے حالیہ فیصلے کے بعد تو امید ہو چلی ہے کہ جنرل راحیل شریف فوج میں کڑے احتساب کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور اس کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے جن 12 افسران کو برطرف کیاہے، ان سے مراعات کا حساب بھی لیں گے ۔ان حالات میں وہ سیاستدانوں اور سرکاری اداروں کے افسروں کی ملی بھگت سے ہونے والی بدعنوانیوں کا احتساب کرنے کی مہم کو کامیاب کرائیں گے ۔کیونکہ قوم کو ان کے اقدامات سے حوصلہ ملا ہے اورجب قوم فوج کے ساتھ اٹھ کھڑی ہو تو اس فضا میں تبدیلی کی کامیابی کاامکان روشن ہوجاتاہے ۔
جنرل راحیل شریف کے فیصلہ سے فوج کے کردار پر اٹھائی جانے والی انگلیوں کے رخ بھی تبدیل ہونے لگے ہیں۔پانامہ لیکس کے بعد دائیں بائیں سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے تھے کہ اگر سیاستدانوں، بیوروکریٹس، ججوں، صنعت کاروں ،رئیل سٹیٹ ٹائیکونز ،اور میڈیا مالکان سے تحقیقات کی جا سکتی ہیں تو فوج کے اندر کرپشن کرنیوالوں کو کون پکڑے گا؟ ظاہر ہے کہ پاکستان میں فوج پر تنقید کرنا ایک مشکل ”جاب“ ہے لہذا اس سے بڑھ کر کرپٹ فوجی افسروں کی نشاندہی کرنے کی کوئی بھی تاب نہیں رکھتا۔ لہٰذا عوام کے ہیجان کو پیش نظر رکھتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے ازخودبدعنوانی کرنیوالے فوجی افسروں کو کھلم کھلا عوامی عدالت میں لاکھڑا کیا ہے۔ اگرچہ اس پر بھی جنرل صاحب سے مزید کا تقاضا کیا جا رہا ہے اور یہ نقطہ انہیں سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اگر فوج میں سے ہر طرح کی کرپشن ختم کردی جائے تو ملک میں اچھی سیاسی قیادت پیدا ہوگی۔بعض فوجیوں کے غیر آئینی وغیر قانونی اقدامات کی وجہ سے کرپٹ سیاستدانوں اور بااثر لوگوں کو تقویت ملتی ہے اور وہ معاشرے میں لوٹ مارکرتے،نظام کار کو کمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں لہذا جب فوج کا دامن بالکل صاف ہوجائے گا اور کرپشن کا سیاسی باب بھی ختم کردیں گے تو پاکستان کی جڑیں ہرحوالے سے مضبوط ہوجائیں گی۔ظاہر ہے جنرل صاحب نے دہشت گردی اور کرپشن کی جنگ جیتنے کے لئے اندر کے لوگوں کو نہیں چھوڑااور ہر صورت ملک کی بنیادیں مضبوط کرنے کی ٹھان لی ہے تو فوج کو آئینی کردار سے باہر نکلنے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔
0 comments:
Post a Comment